ہندی یونیورسٹی میں ملا نایاب درخت ، بیماریوں کے علاج میں مفید ہوگا

  |    May 18th, 2020   |   0

وردہ (محمد زین)
ہندوستان کے آسام ، تریپورہ اور انڈمان اور نِکوبار جزیرے کے علاوہ انڈونیشیا ، برما ، تھائی لینڈ جیسے بیرونی ممالک میں پایا جانے والا و دیگر علاجوں میں کارامد درخت
وردہ کی مہاتما گاندھی بین الاقوامی ہندی یونیورسٹی میں دریافت ہوا ہے۔ وردہ کے نباتات ماہر اور کتاب ’’ فلورا آف وردہ ‘‘ کے مصنف ، پروفیسر رمیش آچاریہ، وردہ ضلع کے وائلڈ لائف کنزرویٹر شری کوشل مشرا نے یہ درخت دریافت کیا ہے۔ اس درخت کا نام فیراننداوا اوڈینوفیلہ ہے اور ونگورناسی خاندان سے وابستہ ہے۔ یہ درخت اینٹی بیکٹیریل ، اینٹی فنگل اور اینٹی وائرس ہے۔ اسے ہندوستان میں٫٫ کٹ ساگ،، کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ جوڑوں کے درد ، جلد ، پائلس وغیرہ میں مفید سمجھا جاتا ہے۔ اس درخت کی لکڑی سے گولف اور بلیئرڈ کی اسٹیک بنائی جاتی ہے ۔

یونیورسٹی کیمپس میں اس درخت کی موجودگی کے بارے میں ، وائلڈ لائف کے سرپرست اور درخت ماہر کوشل مشرا نے بتایا کہ 2003-2004 میں یونیورسٹی میں بڑے پیمانے پر درختوں کی شجرکاری کی گئی تھی اور یہ درخت دوسرے پودوں کے ساتھ وردہ میں آیا گیا تھا۔ تب سے وہ اس درخت کے نشو نما پر مسلسل نگرانی کر رہے تھے ۔اب اس پر پھلیاں بھی لگنے لگی ہیں۔ اس کی پھلی تقریباً ایک فٹ لمبی ہے اور بیج چمکدار رنگ کے ہیں۔ حال ہی میں پروفیسر رمیش آچاریہ ، کوشل مشرا ، یونیورسٹی کے تعلقات عامہ کے افسر بی آر مرگے اور وجئے راٹھی نے درخت کا معائنہ کیا۔ اس درخت کی ترویج کے لئے ، اس کے بیج خارنگانہ واقع نرسری کو دیئے گئے ہیں۔

نباتیات کے 79 سالہ پروفیسر رمیش آچاریہ نے وردہ میں اس درخت کے دریافت ہونے پر اسے ایک کامیابی قرار دیا ہے۔ پروفیسر آچاریہ وردہ کے جے بی سائنس کالج سے ریٹائر ہوچکے ہیں لیکن درختوں سے متعلق ان کا معائنہ اور مطالعہ ابھی جاری ہے۔ انہیں پودوں کی سائنس کے تحت درختوں کی نشاندہی کرنے اور درجہ بندی کرنے میں مہارت حاصل ہے۔ وردہ میں سفید پھولوں کی اقسام کی دریافت میں انہوں نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ریاست مہاراشٹر کا واحد سبزہ کا علاقہ وردہ میں چاندنی رینج میں ہے ، انہوں نے اس میں پائے جانے والے مختلف قسم کی گھاس کی درجہ بندی میں بھی بڑا کردار ادا کیا ہے۔ تقریبا 30 سال پہلے ، انہوں نے ‘وردہ کے فلورا’ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی تھی۔ جس میں انہوں نے ضلع میں پائے جانے والے درختوں اور نباتات کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے۔ انہوں نے درخت سے محبت کرنے والوں سے نایاب اور دواؤں کے درختوں کے تحفظ اور فروغ میں آگے آنے کی اپیل کی ہے۔